[-]
Welcome, Guest
You have to register before you can post on our site.

Username
  

Password
  

[-]
Online Users: 12
0 Member(s) | 12 Guest(s)
[-]
Latest Posts
RE: Latest Songs
Posted by: Saim Ali
Yesterday 05:44 PM
RE: Return after lon...
Posted by: Saim Ali
Yesterday 05:37 PM
RE: zara phir soch l...
Posted by: Saim Ali
Yesterday 05:36 PM
RE: Don't Look For S...
Posted by: Saim Ali
Yesterday 03:18 PM
RE: mohabbat ker ke ...
Posted by: Saim Ali
Yesterday 03:17 PM
RE: sms
Posted by: Saim Ali
Yesterday 03:17 PM
RE: are you ready?
Posted by: Saim Ali
Yesterday 03:15 PM
RE: ek galti per
Posted by: Saim Ali
Yesterday 03:15 PM
RE: Larki ka thapar?
Posted by: Saim Ali
Yesterday 03:11 PM
RE: Hum hawwa ki bet...
Posted by: Saim Ali
Yesterday 03:10 PM
RE: gujranwala ke lo...
Posted by: Saim Ali
Yesterday 03:08 PM
Re: Hum hawwa ki bet...
Posted by: Mozzam
Yesterday 11:08 AM
Re: gujranwala ke lo...
Posted by: Mozzam
Yesterday 11:07 AM
Re: ek galti per
Posted by: Mozzam
Yesterday 11:07 AM
Re: Larki ka thapar?
Posted by: Mozzam
Yesterday 11:06 AM
[-]
Statistics
» Members: 292
» Latest member: mariajozaf
» Forum threads: 4,382
» Forum posts: 28,013

Full Statistics
[-]
Latest Users
mariajozaf
11-25-2014 02:39 PM
richal1243
11-25-2014 02:32 PM
shanayamary
11-24-2014 04:38 PM
alan4321124
11-24-2014 12:11 PM
Zameer Ul Hassan Khan
11-20-2014 07:55 PM
Prince Shahzad
11-16-2014 11:57 AM
SMART MALIK
11-15-2014 02:18 PM
Talha Fareed Chishti
11-10-2014 03:11 PM
a haq ansari
11-09-2014 06:01 PM
Shahzor Shah G
11-08-2014 12:47 AM
  are you ready?
Posted by: Komal - Yesterday 10:20 AM
29 Views - 1 Replies

İmage

Print this item Send this item to a friend

  mohabbat ker ke shaadi kr lena
Posted by: Komal - Yesterday 10:18 AM
23 Views - 1 Replies

İmage

Print this item Send this item to a friend

  Don't Look For Someone
Posted by: Komal - Yesterday 10:14 AM
30 Views - 1 Replies

İmage

Print this item Send this item to a friend

  Hum hawwa ki betiyan
Posted by: Komal - Yesterday 10:10 AM
38 Views - 2 Replies

İmage

Print this item Send this item to a friend

  gujranwala ke log
Posted by: Komal - Yesterday 10:06 AM
41 Views - 2 Replies

İmage

Print this item Send this item to a friend

  ek galti per
Posted by: Komal - Yesterday 10:02 AM
35 Views - 2 Replies

İmage

Print this item Send this item to a friend

  Larki ka thapar?
Posted by: Komal - Yesterday 10:00 AM
26 Views - 2 Replies

İmage

Print this item Send this item to a friend

  sms
Posted by: Komal - Yesterday 09:59 AM
26 Views - 2 Replies

İmage

Print this item Send this item to a friend

  وہ وقت جب دو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی قبریں کھولی گئیں اور دنیا حیران رہ گئی
Posted by: munawer gondal - 11-25-2014 02:24 PM
42 Views - 2 Replies

بغداد (نیوز ڈیسک) کون نہیں جانتا کہ موت کے بعد انسان کا جسم کچھ عرصہ میں مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتا ہے اور سوائے ہڈیوں کے کچھ باقی نہیں رہتا، مگر یہ حقیقت ہے کہ برگزیدہ ہستیوں کے مبارک اجسام دنیا سے رخصتی کے بعد بھی ہمیشہ تازہ پھولوں کی طرح تروتازہ اور مہکتے رہتے ہیں۔
اگرچہ بہت سے لوگ ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے لیکن 1932ءمیں قدرت نے اس کا کھلا ثبوت ہزاروں انسانوں کی آنکھوں کے سامنے عیاں کردیا۔ ان دنوں عراق ،شاہ فیصل اول کے زیر حکمرانی تھا اور ایک رات حضرتِ حذیفہ الیمنی رضی اللہ عنہ ان کے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا، اے بادشاہ! جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور مجھے دجلہ کے کنارے سے نکال کر کسی محفوظ مقام پر منتقل کرو کیونکہ میری قبر میں پانی بھر چکا ہے جبکہ عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کی قبر میں بھی پانی بھررہا ہے۔ شاہ فیصل اول اپنی مصروفیات کی وجہ سے اس بات پر توجہ نہ دے پائے تو یہی خواب اگلی رات بھی انہیں نظر آیا مگر وہ اپنے کاموں میں مصروف رہے۔
تیسری رات حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ عراق کے مفتی اعظم کے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا کہ میں بادشاہ کو دو راتوں سے ہماری منتقلی کا کہہ رہا ہوں مگر وہ توجہ نہیں دے رہے، آپ ان پر زور دیجئے کہ وہ ہمارے قبور منتقل کرنے کے انتظامات کریں۔ اس کے بعد مفتی اعظم، وزیراعظم اور شاہ فیصل اول کے درمیان ملاقات میں طے پایا کہ مفتی صاحب اس بارے میں فتویٰ جاری فرمائیں گے اور وزےراعظم پریس کو بیان جاری کریں گے تاکہ عوام کو اس کے متعلق خبر ہوجائے۔
ابتدائی طور پر یہ فیصلہ ہوا کہ 10 ذی الحج کو قبور مبارکہ کی منتقلی کا مقدس فریضہ سرانجام دیا جائے گا مگر حجاج کرام کی درخواست پر تاریخ 20 ذی الحج مقرر کی گئی تاکہ حج سے فارغ ہونے والے بھی اس اہم موقع پر پہنچ سکیں۔ پھر وہ دن بھی آن پہنچا کہ بغداد شہر کی گلیاں لوگوں سے بھر گئیں اور دور و نزدیک سے آنے والے منتظر تھے کہ کب یہ مبارک فریضہ سرانجام دیا جائے گا۔ بعد از نماز ظہر ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں دونوں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم کی قبور مبارک کو کھولا گیا تو واقعی ان میں پانی بھرچکا تھا، لیکن ہر دیکھنے والے نے دیکھا کہ ان مقدس ہستیوں کے مبارک جسم ایسے تروتازہ تھے جیسے ابھی چند لمحے پہلے سوئے ہوں اور فضا نہایت خوش کن خوشبو سے معطر تھی۔ اس موقع پر ہر آنکھ فرط جذبات سے اشکبار تھی اور دیکھنے والے حیرت سے دم بخود تھے۔
انہی دیکھنے والوں میں ایک جرمن فزیالوجسٹ بھی تھے جن کے سامنے یہ منظر تھا کہ 1300 سال سے بھی زائد عرصہ قبل دفنائے گئے مبارک جسم زندہ انسانوں سے بھی زیادہ تروتازہ نظر آرہے تھے۔ انہوں نے بے اختیار مفتی اعظم کے ہاتھ تھام لئے اور درخواست کی کہ انہیں مسلمان کیا جائے۔ اس موقع پر بے شمار عیسائی اور یہودی بھی مسلمان ہوئے اور قبول اسلام کا یہ سلسلہ کئی سال تک شدومد سے جاری رہا۔ دجلہ کے کنارے سے دونوں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم کی قبور کو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مزار کے قریب منتقل کردیا گیا جو کہ اس وقت بغداد شہر سے 30 میل کے فاصلہ پر واقع تھا۔

Print this item Send this item to a friend

  مولانارومیؒ اور اُن کے شاگرد
Posted by: munawer gondal - 11-25-2014 12:17 PM
30 Views - 1 Replies

ایک روز جلال الدین رومیؒ اپنے شاگردوں کو ساتھ لے کر ایک کھیت میں پہنچے۔
یہ ان کے پڑھانے اورعلم سکھا نے کا انداز تھا۔ وہ زندہ مقالوں کے ذریعے
اپنے شاگردوں کو بڑی سے بڑی بات آسانی سے سمجھا دیا کرتے تھے، اس لیے آج وہ
اپنے شاگردوں کو لے کر ایک کھیت میںآئے تھے۔ ان کے شاگرد سوچ رہے تھے کہ
آخر ایسا کو ن سا سبق ہے جو ہم مدرسے میں حاصل نہیں کر سکتے تھے اور جسے
حاصل کرنے کے لیے ہم اتنی دور اس کھیت میں آئے ہیں۔
لیکن کھیت میں پہنچ کر جو سبق انہوں نے حاصل کیا اس نے تمام شاگردوں کو یہ
سمجھا دیا کہ وہ غلط تھے اور ان کے استاددُرست۔ اس کھیت میں ایک کسان
بالکل کسی پاگل آدمی کی طرح زمین کھودنے میں مصروف تھا۔ دراصل وہ اپنے کھیت
کے لیے ایک کنواں کھودنا چاہتا تھا مگر جب تھوڑی گہرائی تک زمین کھود کر
پانی نہ نکلتا تو وہ اس جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ زمین کھودنے میں لگ جاتا
اور اس طرح اُس کسان نے آٹھ جگہوں سے زمین کھود ڈالی تھی مگر حاصل اسے کچھ
بھی نہ ہوا تھا۔
مولانا جلال الدین رومیؒ نے اپنے شاگردوں سے پوچھا:کیا تم کچھ سمجھ سکتے
ہو؟۔ تھوڑے وقفے کے بعد اپنے شاگردوں کی جانب دیکھ کر دوبارہ گویا ہوئے۔
’’اگر یہ آدمی اپنی پوری طاقت، قوت اور وقت صرف ایک ہی کنواں کھودنے میں
صرف کرتا تو ابھی تک کافی گہرائی میں جا کر اسے اپنی محنت کا پھل مل چکا
ہوتا۔ ایک ہی جگہ اگر یہ کسان زمین کھودتا رہتا تو اب تک وہ پانی حاصل کر
چکا ہوتا لیکن اس نے اس قدر محنت بھی کی اور حاصل حصول کچھ نہ ہوا جبکہ
الٹا اس نے اپنا کھیت خود ہی اجاڑ دیا اوراُسے مایوسی الگ ہوئی۔ اگر ایسی
محنت وہ صرف ایک ہی کنواں کھودنے میں صرف کرتا تو کب کا پانی حاصل کر چکا
ہوتا۔‘‘ پھر وہ اپنے شاگردوں کی جانب پلٹے اور کہا :’ کیا تم لوگ بھی اس
کسان کی پیروی کرنا چاہو گے کہ کبھی ایک راستے پر کبھی دوسرے راستے پر؟
کبھی ایک کی مانو گے کبھی دوسرے کی؟ کبھی کسی کی بات سنو گے کبھی کسی کی؟
اس طرح شاید تم بہت علم تو حاصل کر لو گے مگر وہ سارا علم بے کار ہوگا
کیونکہ وہ علم نہ تو تمہیں روشن خیال بنا پائے گا اور نہ ہی تمہیں بصیرت دے
پائے گا‘‘۔
ایک چھوٹے سے عمل سے مولانا جلال الدین رومیؒ نے اپنے شاگردوں کو ایک بہت
بڑا سبق دیا ہے۔ یہی حقیقت ہے کہ اگر واقعی آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو آپ
کو ایک جگہ اپنا ذہن اور اپنی توجہ مرکوز کرنا ہوگی جبھی آپ کامیابی کی
بلندیوں کو چھو سکتے ہیں۔
ہمیں اپنے آس پاس بے شمار ایسے لوگ دکھائی دیتے ہیں جن کے پاس بے شمار علم
ہے لیکن وہ علم ان کی اپنی زندگی میں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی یہی
وجہ ہے کہ وہ بظاہر تو خود کو علامہ ظاہر کرتے ہیں لیکن اندر سے بالکل
کھوکھلے ہوتے ہیں۔ اگر آپ اپنی زندگی کا ایک مقصد بنائیں گے تو اپنی تمام
قوتیں اسی مقصد کو حاصل کرنے میں صرف کریں گے، لیکن جب آپ کا مقصد ہی شفاف
نہیں ہوگا تو آپ کی قوت، طاقت، ذہانت سب بکھر جائیں گی اور آپ کے ہاتھ کچھ
بھی نہیں آئے گا۔
(بینش جمیل کی کتاب ’’ زندگی کے انمول سبق‘‘ سے ماخوذ)

Print this item Send this item to a friend

  Save your Laptop & Mobile battery for a long time
Posted by: Mozzam - 11-25-2014 09:48 AM
104 Views - 3 Replies

نیویارک(نیوزڈیسک)آپ کو بعض اوقات لمبا سفر طے کرنے کا اتفاق ہوا ہوگا یا اگر آپ ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو آپ کو اپنے موبائل اور لیپ ٹاپ کی بیٹری چارج کرنے کی فکر لاحق ہو گی لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ آپ کو ایسے طریقوں کا پتا چل جائے جن کے استعمال سے آپ بیٹری ٹائم میں اضافہ کر سکیں۔

موبائل فون دیر تک چارج رکھنے کےلئے مفید مشورے

آئیے کچھ ایسے طریقے جانتے ہیں جن سے بیٹری ٹائم بڑھایا جا سکتا ہے۔
انتہائی درجہ حرارت سے اجتناب کریں

انسانی جسم کی طرح ہمارے موبائل اور لیپ ٹاپ کی بیٹریاں بھی بیرونی درجہ حرارت سے بہت متاثر ہوتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے ہی درجہ حرارت 35ڈگری سے زائد اور زیرو ڈگری سے نیچے آتا ہے تو بیٹری کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور اس کا ٹائم تیزی سے کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ لہذا آپ اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ موبائل اور دیگر آلات کو سورج کی روشنی سے دور رکھیں۔
جزوی ڈسچارج کرنا
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ایک غلط عمل ہے کہ موبائل کی بیٹری کو مکمل طور پر خالی ہونے کے بعد چارج کیا جائے یا اسے مکمل 100فیصد پر چارج کیا جائے بلکہ صارفین کو چاہیے کہ جب موبائل بیٹری 40فیصد پر آئے تب چارج کیا جائے اور جب یہ 80فیصد تک آجائے تو چارجر اتار دیا جائے کیونکہ اس طرح بیٹری ٹائم بڑھ جائے گا۔
بیٹری کو چارج ہونے کے بعد بھی چارجر سے نہ اتارنا
یہ بات اکثر دیکھنے میں آتی ہے کہ موبائل یا لیپ ٹاپ چارج ہونے کے بعد بھی چارجنگ پر لگا رہتا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بیٹری کو چارجنگ سے نہ اتاراجائے تو بیٹری کی لائف میں کمی ہوتی جاتی ہے ۔بیٹریاں ایک خاص قسم کی دھات لیتھیم سے بنتی ہیں اور جب بیٹری 100فیصد ہوجاتی ہے اور چارجر لگا رہے تو لیتھیم سیلز کو نقصان پہنچنا شروع جاتاہے اور بیٹری تو خراب ہو جاتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ کی ڈیوائس بھی خراب ہو سکتی ہے۔

الٹرا فاسٹ چارجر
مارکیٹ میں کئی ایسے چارجر دستیاب ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ فوراًموبائل چارج کردیتے ہیں۔ بظاہر یہ بہت اچھا لگتا ہے کہ بیٹری پلک جھپکتے چارج ہوجائے لیکن اصل میں یہ چارجرز بیٹری کے لئے انتہائی خطرناک ہیں لہذا آپ تمام ایسے چارجرز سے اجتناب کریں۔
جعلی چارجرز کا استعمال
ہر گز جعلی چارجر ز کا استعمال نہ کریں کیونکہ یہ ناصرف آپ کی ڈیوائس کو نقصان پہنچائیں گے بلکہ کسی حادثے کا بھی باعث بن سکتے ہیں۔آئے روز ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ موبائل پھٹ گیا، اس کی وجہ کوئی اور ہو نہ ہو لیکن ناقص چارجر سب سے اہم وجہ ہے۔
لمبے عرصے کے لئے بیٹری کو رکھنا


بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آپ کو اپنی ڈیوائس لمبے عرصے کے لئے رکھنا ہوتا ہے ۔ایسی صورت میں اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ اپنی ڈیوائس کو ایسی جگہ رکھیں جہاں کا درجہ حرارت 32ڈگری سے کم ہو اور بیٹری 50فیصد سے زائد چارج ہو ورنہ آپ کی ڈیوائس کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔



Attached File(s) Image(s)
   
Print this item Send this item to a friend

  Govt. Children hospital main 23 din main 17 bache Jahbahak
Posted by: Mozzam - 11-24-2014 04:55 PM
53 Views - 2 Replies

İmage

Print this item Send this item to a friend

  Return after longe time so many new faces, nice but busy
Posted by: Shahid Riaz - 11-24-2014 03:00 PM
44 Views - 2 Replies

Return after long time so many new faces, nice but busy cray

In this duration 2 time in Pakistan, my family arrieved in KSA on permanent visa, settle, performed Umra, visit Madinah and Makkah

Print this item Send this item to a friend

  Sab friends ke liye
Posted by: sono - 11-23-2014 11:15 PM
70 Views - 3 Replies

İmage

Print this item Send this item to a friend

  life and death
Posted by: sono - 11-23-2014 11:11 PM
38 Views - No Replies

İmage

Print this item Send this item to a friend

  zara phir soch lo
Posted by: sono - 11-23-2014 11:06 PM
56 Views - 2 Replies

İmage

Print this item Send this item to a friend

  My village First Andriod App
Posted by: DJ_Asad - 11-23-2014 07:57 PM
55 Views - 2 Replies

Salam Friends ye mere pind k nam se 1 ma ne app teyaar ki hai jo ma ne Village Ahla k name se banai hai plz chek it must


asadw92 (2).apk

Print this item Send this item to a friend

  Ptcl Speed test Pakistani top websites
Posted by: sherazbutts - 11-22-2014 11:12 PM
53 Views - 1 Replies

dosto ajj main apko ptcl speed test ki kuch sites ke naam bataoo ga ...

1-http://www.pakistanihub.pk/ptclspeedtest/
2-Ptcl Speed Test
3-ptclspeedtest.blogsia.info
4-Speedtest.net by Ookla

Shukriya....

Print this item Send this item to a friend

  وضو کے فوائد
Posted by: munawer gondal - 11-22-2014 06:14 PM
55 Views - 1 Replies

مونالا محمد الیاس عطار قادری

ایک صاحِب کا بیان ہے ،میں نے بیلجیئم میں یونیورسٹی کے ایک
طالب علم کو اسلام کی دعوت دی اس نے سوال کیا، وضو میں کیا کیا سائنسی
حکمتیں ہیں؟ میں لاجواب ہوگیا۔ اُس کو ایک عالم کے پاس لے گیا لیکن اُن کو
بھی اِس کی معلومات نہ تھیں۔ یہاں تک کہ سائنسی معلومات رکھنے والے ایک شخص
نے اُس کو وضو کی کافی خوبیاں بتائیں مگر گردن کے مَسح کی حکمت بتانے سے
وہ بھی قاصِر رہا۔ وہ چلا گیا، کچھ عرصے کے بعد آیا اور کہنے لگا ہمارے
پروفیسر نے دوران لیکچر بتایا ’’ اگر گردن کی پُشت اور اطراف پر روزانہ
پانی کے چند قطرے لگادیئے جائیں تو ریڑھ کی ہڈّی اور حرام مغز کی خرابی سے
پیدا ہونیوالے امراض سے تحفظ حاصل ہوجاتا ہے‘‘ ۔یہ سن کر وضو میں گردن کے
مسح کی حکمت میری سمجھ میں آگئی لہٰذا میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں اور وہ
مسلمان ہوگیا۔مغربی ممالک میں مایوسی یعنی(DEPRESSION)کا مرض ترقی پر
ہے،پاگل خانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، نفسیاتی امراض کے ماہرین
کے یہاں مریضوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ مغربی جرمنی کے ڈپلومہ ہولڈر ایک
پاکستانی فزیو تھراپسٹ کا کہنا ہے، مغربی جرمنی میں ایک سیمینار ہوا جس کا
موضوع تھا ’’مایوسی کا علاج ادویا ت کے علاوہ اور کن کن طریقوں سے ممکن
ہے۔‘‘ ایک ڈاکٹر نے اپنے مقالے میں یہ حیرت انگیز انکشاف کیا کہ’’ میں نے
ڈپریشن کے چند مریضوں کے روزانہ پانچ بار منہ دھلائے کچھ عرصے بعد ان کی
بیماری کم ہوگئی۔ پھر ایسے ہی مریضوں کے دوسرے گروپ کے روزانہ پانچ بار
ہاتھ،منہ اور پائوں دھلوائے تو مرض میں بہت افاقہ ہوگیا۔ یہی ڈاکٹر اپنے
مقالے کے آخر میں اعتراف کرتا ہے مسلما نو ں میں مایوسی کا مرض کم پایا
جاتا ہے کیوں کہ وہ دن میں کئی مرتبہ ہاتھ، منہ اور پائوں دھوتے (یعنی وضو
کرتے) ہیں۔‘‘ ایک ہارٹ اسپیشلسٹ کا بڑے وثوق کے ساتھ کہنا ہے، ہائی بلڈ
پریشر کے مریض کو وضو کروائو پھر اس کا بلڈ پریشر چیک کرو لازماً کم ہوگا۔
ایک مسلمان ماہر نفسیات ڈاکٹر کا قول ہے ’’نفسیاتی امراض کا بہترین علاج
وضو ہے۔‘‘ مغربی ماہرین نفسیاتی مریضوں کو وضو کی طرح روزانہ کئی بار بدن
پر پانی لگواتے ہیں۔وضو میںجو ترتیب وار اعضاء دھوئے جاتے ہیں یہ بھی حکمت
سے خالی نہیں۔ پہلے ہاتھوں کو پانی میں ڈالنے سے جسم کا اعصابی نظام مطلع
ہوجاتا ہے اور پھر آہِستہ آہِستہ چہرے اور دماغ کی رگوں کی طرف اسکے اثرات
پہنچتے ہیں۔ وضو میں پہلے ہاتھ دھونے،کلی کرنے، ناک میں پانی ڈالنے ، چہرہ
اور دیگر اعضا ء دھونے کی ترتیب فالج کی روک تھام کیلئے مفید ہے، وضو
میںمتعددسنتیں ہیں اور ہر سنّت مخزن حکمت ہے۔
مسواک ہی کو لے لیجئے! بچّہ بچّہ جانتا ہے کہ وضو میں مسواک کرنا سنّت ہے
اور اس سنّت کی برکتوں کا کیا کہنا! ایک بیوپاری کا کہنا ہے ’’سوئٹزرلینڈ
میں ایک نو مسلم سے میری ملاقات ہوئی، اس کو میں نے تحفۃً مسواک پیش کی،
اُس نے خوش ہوکر اسے لیا اور چوم کر آنکھوں سے لگایا اور یکدم اُس کی
آنکھوں سے آنسو چَھلک پڑے، اُس نے جیب سے ایک رومال نکالا اسے کھولا تو اس
میں سے تقریباً دو اِنچ کا چھوٹا سا مسواک کا ٹکڑا برآمد ہوا۔ کہنے لگا جب
میں نے اسلام قبول کیا تھا تو اس وقت مجھے یہ تحفہ دیا گیاتھا۔ میں بہت
سنبھال سنبھا ل کر اِس کو استعمال کررہا تھا یہ ختم ہونے کو تھی ،مجھے
تشویش تھی کہ اللہ نے کرم فرمایا اور آپ نے مجھے مسواک عنایت فرمادی۔ پھر
اس نے بتایا کہ ایک عرصے سے میں دانتوں اور مسوڑھوں کی تکلیف سے دوچار تھا۔
ہمارے یہاں کے ڈینٹِسٹ سے ان کا علاج بن نہیں پڑرہا تھا۔ میں نے مسواک کا
استعمال شروع کیا تھوڑے ہی دنوں میں مجھے افاقہ ہوگیا۔ میں ڈاکٹر کے پاس
گیا تو وہ حیران رہ گیا اور پوچھنے لگا، میری دوا سے اتنی جلدی تمہارا مرض
دور نہیں ہوسکتا سوچو کوئی اور وجہ ہوگی۔ میں نے جب ذہن پر زور دیا تو خیال
آیا کہ میں مسلمان ہوچکا ہوں اور یہ ساری برکت مسواک ہی کی ہے۔ جب میں نے
ڈاکٹر کو مسواک دکھائی تو وہ حیرت سے دیکھتا ہی رہ گیا۔
مسواک میں بے شما دینی و دنیوی فوائد ہیں، اس میں متعدد کیمیاوی اجزاء
ہیں جو دانتوں کو ہر طرح کی بیماری سے بچاتے ہیں۔ حضرت علی المرتضیٰ شیرِ
خداکرم اﷲ وجہہ الکریم اور حضرت عبداللہ بن عبّاسؓ کا فرمانِ عالیشان ہے
’’مسواک سے قوت حافظہ بڑھتی ، دردسر دور ہوتا اور سرکی رگوں کوسکون ملتا
ہے، اس سے بلغم دور، نظر تیز، معدہ درست اور کھانا ہضم ہوتا ہے، عقل بڑھتی،
بڑھا پا دیر میں آتا اور پیٹھ مضبوط ہوتی ہے۔‘‘جب سرکار مدینہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم اپنے مبارک گھر میں داخل ہوتے تو سب سے پہلے مسواک کرتے۔
سرکار نامدارؐنیند سے بیدار ہوتے تو مسواک کرتے ۔
وضو میں سب سے پہلے ہاتھ دھوئے جاتے ہیں اس کی حکمتیں ملا حظہ ہوں۔ مختلف
چیزوں میں ہاتھ ڈالتے رہنے سے ہاتھوںمیں مختلف کیمیاوی اجزاء اور جراثیم لگ
جاتے ہیں اگر سارا دن نہ دھوئے جائیں تو جلد ہی ہاتھ ان جِلدی امراض میں
مبتلاہوسکتے ہیں:(1)ہاتھوںکے گرمی دانے ( 2) جلدی سوزش (3) ایگزیما (4)
پھپھُوندی کی بیماریاں( 5) جِلد کی رنگت تبدیل ہوجاناوغیرہ۔ جب ہم ہاتھ
دھوتے ہیں تو انگلیوں کے پَوروں سے شعاعیں (RAYS) نکل کر ایک ایسا حلقہ
بناتی ہیں جس سے ہمارا اندرونی برقی نظام متحرک ہوجا تا ہے اور ایک حد تک
برقی رَو ہمارے ہاتھوں میں سمٹ آتی ہے اس سے ہمارے ہاتھوں میں حسن پیدا
ہوجاتا ہے۔ پہلے ہاتھ دھولئے جاتے ہیں جس سے وہ جراثیم سے پاک ہوجاتے ہیں
ورنہ یہ کُلّی کے ذریعے مُنہ میں اور پھر پیٹ میں جاکرمتعدد امراض کا باعِث
بن سکتے ہیں۔ہوا کے ذریعے لاتعداد مہلک جراثیم نیز غذا کے اجزاء ہمارے منہ
اور دانتوں میں لعاب کے ساتھ چِپک جاتے ہیں ۔ چنانچہ وضو میں مسواک اور
کُلّیوںکے ذریعے منہ کی بہترین صفائی ہوجاتی ہے۔ اگر منہ کو صاف نہ کیا
جائے تو ان امراض کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے:۔
( 1) ایڈز کی ابتدائی علامات میں منہ کا پکنا بھی شامل ہے۔
(2) منہ کے کناروں کا پھٹنا (3) منہ اور ہونٹوں کی داد قوبا (MONILIASIS)
(4) منہ میں پَھپُھوندی کی بیماریاں اور چھالے وغیرہ ۔ نیز روزہ نہ ہو تو
کلّی کے ساتھ غرغرہ کرنا بھی سنّت ہے اور پابندی کے ساتھ غرغرے کرنے والا
کوے (TONSIL) بڑھنے اور گلے کے بہت سارے امراض حتیّٰ کہ گلے کے کینسر سے
محفوظ رہتا ہے۔پھیپھڑوں کو ایسی ہوا درکار ہوتی ہے جو جراثیم، دھوئیں اور
گرد وغبا ر سے پاک ہو اور اس میں80 فیصد رطوبت یعنی تَری ہو اور جس کا
درجۂ حرارت نوّے درجہ فارن ہائٹ سے زائد ہو۔ ایسی ہوا فراہم کرنے کیلئے
اللہ نے ہمیں ناک کی نعمت سے نوازا ہے۔ ہوا کو مرطوب یعنی نم بنانے کیلئے
ناک روزانہ تقریباً چوتھائی گیلن نمی پیدا کرتی ہے۔ صفائی اور دیگر سخت کام
نتھنوں کے بال سر انجام دیتے ہیں۔ ناک کے اندر ایک خوردبین (MICROSCOPIC)
جھاڑو ہے۔ اس جھاڑو میں غیر مرئی یعنی نظر نہ آنے والے رُوئیں ہوتے ہیں
جو ہوا کے ذریعے داخل ہونے والے جراثیم کوہلاک کردیتے ہیں۔ نیز ان غیر مرئی
رُؤوں کے ذمّے ایک اور دفاعی نظام بھی ہے جسے انگریزی میں IM U LYSOZ
کہتے ہیں ، ناک اس کے ذریعے سے آنکھوں کو INFECTIONسے محفوظ رکھتی ہے۔ وضو
کرنے والا ناک میں پانی چڑھاتا ہے جس سے جسم کے اس اہم ترین آلے ناک کی
صفائی ہوجاتی ہے اور پانی کے اندر کام کرنے والی بَرقی رَو سے ناک کے
اندرونی غیر مرئی رُؤوں کی کارکردگی کو تقویّت پہنچتی ہے اور مسلمان وضو
کی برکت سے ناک کے بے شمار پیچیدہ امراض سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ دائمی نزلہ
اور ناک کے زخم کے مریضوں کیلئے ناک کا غسل ( یعنی وضو کی طرح ناک میں
پانی چڑھانا) بے حد مفید ہے ۔آج کل فضائوں میں دھوئیں وغیرہ کی آلودگیاں
بڑھتی جارہی ہیں ۔ مختلف کیمیاوی مادے میل کچیل کی شکل میں آنکھوں اور چہرے
وغیرہ پر جمتے رہتے ہیں۔ اگرچہرہ نہ دھویا جائے توچہرے اور آنکھیں کئی
امراض سے دوچار ہو جائیں ایک یورپین ڈاکٹر نے ایک مقالہ لکھا جس کا نام
تھا، آنکھ ، پانی، صحّت( EYE,WATER, HEALTH) اس میں اس نے اس بات پر زور
دیا کہ ’’اپنی آنکھوں کو دن میں کئی بار دھوتے رہو ورنہ تمہیں خطرناک
بیماریوں سے دوچار ہونا پڑیگا۔‘‘ چہرہ دھونے سے منہ پر کِیل نہیں نکلتے یا
کم نکلتے ہیں۔ ماہرین حسن و صحّت اس بات پر متفق ہیں کہ ہر طرح کی کریم اور
لوشن وغیرہ چہرے پر داغ چھوڑتے ہیں۔ چہرے کو خوبصورت بنانے کیلئے چہرے کو
کئی بار دھونا لازمی ہے۔ ’’امریکن کونسل فاربیوٹی‘‘ کی سرکردہ ممبر
’’بیچر‘‘ نے کیا خوب انکشاف کیا ہے کہتی ہیں ’’مسلمانوں کو کسی قسم کے
کیمیاوی لوشن کی حاجت نہیں وضوسے انکا چہرہ دُھل کر کئی بیماریوں سے محفوظ
ہوجاتا ہے ۔‘‘ محکمۂ ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے’’ چہرے کی الرجی سے
بچنے کیلئے اس کو بار بار دھونا چاہئے‘‘۔ الحمداللہ! ایسا صرف وضو کے ذریعے
ہی ممکن ہے۔وضو میںچہرہ دھونے سے چہرے کا مساج ہوجاتا، خون کا دوران چہرے
کی طرف رواں ہوجاتا،میل کچیل بھی اتر جاتا اور چہرے کا حُسن دوبالا ہوجاتا
ہے۔میں آنکھوں کے ایک ایسے مرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں جس میں آنکھوں کی
رطوبتِ اَصلِیّہ یعنی اصلی تری کم یا ختم ہوجاتی اور مریض آہستہ آہستہ
اندھا ہوجاتا ہے۔طبّی اصول کے مطابق اگر بھنوؤں کو وقتاً فوقتاً تر کیا
جاتا رہے تو اس خوفناک مرض سے تحفظ حاصل ہوسکتا ہے۔ الحمداللہ! وضو کرنے
والا منہ دھوتا ہے تو اس طرح اس کی بھنویں تر ہوتی رہتی ہیں۔ جو خوش نصیب
اپنے چہرے پر داڑھی مبارک سجاتے ہیں وہ سُنیں ڈاکٹر پروفیسر جارج ایل کہتے
ہیں’’ منہ دھونے سے داڑھی میں اُلجھے ہوئے جراثیم بہہ جاتے ہیں۔ جڑ تک
پانی پہنچنے سے بالوں کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔ خلال (کی سنّت ادا کرنے کی
برکت) سے جوؤں کا خطرہ دور ہوتا ہے مزید داڑھی میں پانی کی تری کے ٹھہرائو
سے گردن کے پَٹھّوں، تھائی رائیڈ گلینڈ اور گلے کے امراض سے حفاظت ہوتی
ہے۔‘‘
کُہنی پر تین بڑی رگیں ہیں جن کا تعلق دل،جگر اور دماغ سے ہے اور جسم کا یہ
حصّہ عموماً ڈھکا رہتا ہے اگر اس کوپانی اور ہوا نہ لگے تو متعدد دماغی
اور اعصابی امراض پیدا ہوسکتے ہیں۔ وضو میں کہنیوں سمیت ہاتھ دھونے سے
دل،جگر اور دماغ کو تقویت پہنچتی ہے۔ مزید یہ کہ کہنیوں سمیت ہاتھ دھونے سے
سینے کے اندر ذخیرہ شدہ روشنیوں سے براہ راست انسا ن کا تعلق قائم ہوجاتا
ہے اور روشنیوں کا ہجوم ایک بہائو کی شکل اختیار کرلیتا ہے، اس عمل سے
ہاتھوں کے عضلات یعنی کل پرزے مزید طاقتور ہوجاتے ہیں۔سراور گردن کے درمیان
’’حَبلُ الْوَرِید‘‘ یعنی شہ رگ واقع ہے اس کا تعلق ریڑھ کی ہڈّی اور حرام
مغز اور جسم کے تمام تر جوڑوں سے ہے۔ جب وضو کرنے والا گردن کامسح کرتا ہے
تو ہاتھوں کے ذریعے برقی رَونکل کر شہ رگ میں ذخیرہ ہوجاتی ہے اور ریڑھ کی
ہڈّی سے ہوتی ہوئی جسم کے تمام اعصابی نظام میں پھیل جاتی ہے اور اس سے
اعصابی نظام کو توانائی حاصل ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ مسح کرنے سے لُولگنے اور
گردن توڑبخار سے بھی بچت ہوتی ہے۔پائوں سب سے زیادہ دھول آلود ہوتے ہیں۔
پہلے پہل INFECTION پائوں کی انگلیوں کے درمیانی حصّہ سے شروع ہوتا ہے۔
وضو میں پائوں دھونے سے گرد و غُبار اور جراثیم بہہ جاتے ہیں اور بچے کھچے
جراثیم پائوں کی انگلیوں کے خلال سے نکل جاتے ہیں۔لہٰذا وضو میں سنّت کے
مطابق پاؤں دھونے سے نیند کی کمی، دماغی خشکی‘ گھبراہٹ اور مایوسی
(DEPRESSION) جیسے پریشان کن امراض دور ہوتے ہیں۔وضو کے طبّی فوائد سن کر
آپ خوش تو ہوگئے ہوں گے مگر عرض کرتا چلوں کہ سائنسی تحقیقات بھی حتمی نہیں
ہوتیں، بدلتی رہتی ہیں۔ ہاں اللہ و رسول ؐکے احکامات اٹل ہیں وہ نہیں
بدلیں گے۔ ہمیں سنّتوں پر عمل طبّی فوائد پانے کیلئے نہیں صرف و صرف رضائے
الٰہی کی خاطر کرنا چاہئے۔ اس لئے وضو کرنا کہ میرا بلڈ پریشر نارمل ہوجائے
یا میں تازہ دم ہوجائوں گا یا ڈائٹنگ کیلئے روزہ رکھنا تاکہ بھوک کے فوائد
حاصل ہوں۔ سفر مدینہ اسلئے کرنا کہ آب و ہوا بھی تبدیل ہوجائے گی اور گھر
اور کاروباری جھنجھٹ سے بھی کچھ دن سکون ملے گا یا دینی مطالعہ اس لئے
کرنا کہ میرا ٹائم پاس ہوجائے گا۔ اس طرح کی نیتوں سے اعمال بجالانے والوں
کو ثواب کہاں سے ملے گا؟ اگر ہم عمل اللہ کو خوش کرنے کیلئے کریں گے تو
ثواب بھی ملے گا اور ضِمناً اس کے فوائد بھی حاصل ہوجائیں گے۔ لہٰذا ظاہری
اور باطنی آداب کوملحو ظ رکھتے ہوئے وضو بھی ہمیں اللہ کی رضا کیلئے ہی
کرنا چاہئے۔یاد رکھئے! آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی سنّت سائنسی تحقیق
کی محتاج نہیں اور ہمارا مقصود اتباع سائنس نہیں اتباع سنّت ہے۔ مجھے کہنے
دیجئے کہ جب یورپین ماہرین برسہا برس کی عرق ریزی کے بعدنتیجے کا دریچہ
کھولتے ہیں تو انہیں سامنے مسکراتی نور برساتی سنّت مصطفو ی ؐ ہی نظر آتی
ہے۔ دنیا میں لاکھ سیر و سیاحت کیجئے،جتنا چاہے عیش و عشرت کیجئے، مگر آپ
کے دل کو حقیقی راحت میسر نہیں آئے گی، سکون قلب صرف و صرف یادخدا میں ملے
گا، دل کا چین عشق سرورکونینؐ ہی میں حاصل ہوگا۔ دنیا و آخرت کی
راحتیںسائنسی آلات ٹی وی ، وی سی آراور انٹرنیٹ کے روبرو نہیں اِتباع سنّت
میں ہی نصیب ہوں گی۔
٭…٭…٭

Print this item Send this item to a friend

  Sardiyoon ka mosam
Posted by: Mozzam - 11-22-2014 05:28 PM
82 Views - 2 Replies

سرديوں کا موسم..
وہ ٹيرس
وہ ہرسو بکھری سنہری دھوپ
وہ چائے
جو ہم نے ساتھ ميں پی تھی !




İmage

Print this item Send this item to a friend

[-]
Today's Birthdays
None
[-]
advisement
[-]
Top Posters
munawer gondal
52,058 Posts
saira
51,416 Posts
Mozzam
41,469 Posts
Amir
36,026 Posts
Dani Baba
20,272 Posts
AkhtarGondal
15,038 Posts
وسیم رانجھا
10,304 Posts
Jamil Muhammad
10,010 Posts
Saim Ali
7,539 Posts
zara
7,072 Posts
mirza
2,951 Posts
Fariha Anis
1,365 Posts
princess fatima
1,224 Posts
Lubna Rani
956 Posts
Nadeem
926 Posts
[-]
Search
Pro Portal 1.0 © 2010 DragonFever